آڑی[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آڑا کی تانیث، ٹیڑھی، ترچھی۔ "اس میں ٹانگ کی حرکت آڑی . یا عرضی طور پر ممکن ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی حشریات، ٣٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'آورک' ہے اور اردو زبان میں داخل ہو کر 'آڑا' مستعمل ہوا اور اردو قواعد کے مطابق 'الف' گرا کر 'ی' لگانے سے 'آڑی' بطور تانیث مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٧ء میں ہاشمی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آڑا کی تانیث، ٹیڑھی، ترچھی۔ "اس میں ٹانگ کی حرکت آڑی . یا عرضی طور پر ممکن ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی حشریات، ٣٨ )

اصل لفظ: آورک
جنس: مؤنث